نئی دہلی،6؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر اسکینڈل کے ملزم کرسچین مشیل کوہندوستان حوالگی کے پس منظرمیں حکومت کے حملوں پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے چہارشنبہ کو الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت اپنی بدعنوانی کی حقیقت بتانے کے بجائے اگسٹا معاملے میں فرضی ثبوت گڑھنے میں مصروف ہے۔پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ اگستا ویسٹ لینڈ اور فنمیکانکا نام ممنوعہ فہرست میں ہونے کے باوجود ان کو مودی حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کاری فروغ بورڈ (ایف آئی پی بی)کی منظوری ملی تاکہ وہ ہندوستانی کارپوریٹ گروپوں کی پارٹنر بن سکے۔کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ایک بیان میں کہا کہ اگستامعاملے میں بی جے پی صرف گمراہ کرنے اور کیچڑ اچھالنے کا کام کر رہی ہے،وہ اپنی بدعنوانی کی حقیقت بتانے کے بجائے اس معاملے میں فرضی ثبوت گڑھنے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ سامنے نظر آرہی کراری شکست کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔سرجیوالا نے کہا کہ فروری2010میں12ہیلی کاپٹروں کی خریداری کیلئے 3546کروڑ روپے کا سوداگستا ویسٹ لینڈ کو دیا گیا اور پھر میڈیا کی خبروں کے پیش نظر فروری2013میں سودا منسوخ کر دیا گیا12فروری2013کو کیس سی بی آئی کو دیا گیا تھا10فروری2014کو یو پی اے حکومت نے اگستا ویسٹ لینڈ اورفنمیکانکا کوممنوعہ فہرست میں ڈال دیا۔انہوں نے جولائی2017میں دبئی میں مشیل کو حراست میں لئے جانے کے بعد اس کی وکیل کی جانب سے دئے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ ایسا ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ وزیراعلیٰ کوانتقام لینے کے لئے جھوٹے ثبوت حاصل کرنے میں شامل ہوناپڑے۔